ابنا: حکومت مخالف رہنما فؤاد ابراھیم نے بتایا ہے کہ آل خلیفہ حکومت کے بعض عہدیداروں کے خلاف بیس جولائي کو بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمہ دائر کردیا جاۓ گا۔ کویت کے جج حمید دشتی ، ڈاکٹر ابراہیم مناع ، سعید شہابی اور مزید چار جج فواد ابراہیم کے ہمراہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں آل خلیفہ کے مظالم کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔ بحرین میں مظاہرین کا قتل عام ، قیدیوں پر تشدد اور پر امن مظاہروں میں حصہ لینے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا روکا جانا ان بعض مظالم کا حصہ ہیں جن کا ارتکاب آل خلیفہ حکومت نے کیا ہے۔ ہسپتالوں کا محاصرہ اور بیماروں اور حالیہ جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے والوں کے علاج کے سدراہ ہونا ایسے غیر انسانی اقدامات ہیں آل خلیفہ حکومت جن کی مرتکب ہوئي ہے۔ البتہ آل خلیفہ کے جرائم انہی امور تک محدود نہیں ہیں بلکہ تعلیمی اداروں سے اساتذہ اور طلبا کا اخراج بھی ان پالیسیوں کا حصہ ہے جو اس حکومت نے عوامی تحریک کو ختم کرنے کے لۓ اختیار کی ہیں۔ اب تک دو سو اسٹوڈنٹس ، گیارہ پروفیسروں اور چالیس ملازمین کو بحرین یونیورسٹی سے نکال دیا گيا ہے ۔ بحرین کی پارلیمنٹ میں الوفاق دھڑے کے سابق رکن جمیل کاظم نے ، جنہوں نے پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفی دے دیا ہے ، بحرین میں سیاسی کشیدگي کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا ہے کہ بحرین کے عوام کو طاقت کے زور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ آل خلیفہ کی حکومت نے مظاہرین کو کچلنے کی پالیسی اختیار کرنے ، ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے خلاف اکسانے ، اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان تفرقہ ڈالنے اور مخالفین کے خلاف مختلف طرح کے ہتھیار استعمال کرنے کے ذریعے بحرین کے عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کی لیکن یہ تمام اقدامات بے سود ثابت ہوۓ کیونکہ آل خلیفہ حکومت کی برطرفی کے سلسلے میں عوام کا ارادہ پہلے سے بھی زیادہ راسخ ہوچکا ہے ۔ دریں اثناء ہیومن رائٹس واچ نے بھی آل خلیفہ سے کہا ہے کہ وہ سیاسی انتقام لینے سے باز رہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطی کے امور کے سربراہ جو اسٹورک نے آل خلیفہ کی حکومت کو مخاطب قرار دیتے ہوۓ کہا ہے کہ وہ تشدد سے کام لینے کے بجاۓ عوامی مطالبات پورے کرے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ بحرین میں تشدد کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں اس ملک کے حکام کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلاۓ جانے کا امکان پایا جاتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110